دبئی مالی مرکز کی عدالتیں عالمی سطح پر تصدیق کے قابل ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہیں

دبئی مالی مرکز کی عدالتیں عالمی سطح پر تصدیق کے قابل ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہیں

دبئی، متحدہ عرب امارات، 14 اکتوبر 2026: دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (DIFC) کی عدالتوں نے ایسی عدالتی دستاویزات جاری کرنا شروع کر دی ہیں جن کی تصدیق وصول کنندہ دنیا میں کہیں بھی چند سیکنڈ میں کر سکتا ہے۔ عدالتی احکامات اور سماعت کی کارروائی کے ریکارڈ پر اب ایک منفرد، ناقابلِ منتقلی ڈیجیٹل سندِ اصالت درج ہوتی ہے جس کی تصدیق بلاک چین کے ذریعے کی جا سکتی ہے، اس طرح بینک، سرکاری ادارے، عدالتیں اور فریقِ مخالف جلد اطمینان کر سکتے ہیں کہ دستاویز DIFC عدالتوں نے ہی جاری کی ہے۔ اس سے بیرونِ ملک عدالتی دستاویزات کے استعمال میں تصدیق سے متعلق عام طور پر پیش آنے والی تاخیر کم ہوتی ہے۔

خبر کی نمایاں باتیں

  • عدالتی احکامات اور سماعت کے ریکارڈ پر اب بلاک چین اسناد موجود ہیں جو دنیا میں کہیں بھی وصول کنندہ کے لیے دستاویز کی اصالت اور ماخذ کی تصدیق کرتی ہیں، اور دستاویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کرتیں۔
  • یہ اقدام سرحد پار تصدیق میں تاخیر کم کرتا ہے اور DIFC عدالتوں کی جانب سے ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی کے استعمال کو آگے بڑھاتا ہے۔

جب DIFC عدالتیں کوئی عدالتی حکم یا سماعت کا ریکارڈ جاری کرتی ہیں تو ڈیجیٹل فائل کا ایک خفیہ کاری پر مبنی فنگر پرنٹ NFT پر مبنی ایک منفرد سند سے منسلک کیا جاتا ہے، جو Avalanche کے عوامی بلاک چین Avalanche C-Chain پر درج ہوتی ہے۔ وصول کنندہ دستاویز کا اس سند سے موازنہ کر کے تصدیق کر سکتا ہے کہ یہ DIFC عدالتوں نے جاری کی ہے، جبکہ فائل میں کسی بھی تبدیلی کی صورت میں تصدیق ناکام ہو جاتی ہے۔ دستاویز بذاتِ خود بلاک چین پر محفوظ نہیں کی جاتی، اور نہ ہی دستاویزات کا کوئی مواد یا مقدمات سے متعلق کوئی خفیہ معلومات اس پر درج کی جاتی ہیں۔

DIFC عدالتوں کے ڈائریکٹر عزت مآب جسٹس عمر المہیری نے کہا: "کسی عدالتی دستاویز کی اصالت پر اعتماد کا انحصار جغرافیے پر نہیں ہونا چاہیے۔ وصول کنندہ کو چند سیکنڈ میں دستاویز کے ماخذ اور اس کی سالمیت کی آزادانہ تصدیق کے قابل بنا کر ہم قابلِ اعتماد ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو عدالت کی طبعی حدود سے آگے لے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی کاروباری اداروں اور عدالتوں سے رجوع کرنے والوں کے لیے یہ اس وقت اضافی یقین فراہم کرتا ہے جب عدالتی دستاویزات مختلف اداروں اور دائرہ ہائے اختیار میں پیش کی جاتی ہیں۔ یہ محفوظ، عملی اور مستقبل کے لیے تیار عدالتی خدمات کی تیاری کے ہمارے مسلسل عزم کا عکاس ہے، اور دبئی ڈیجیٹل اسٹریٹجی اور دبئی اکنامک ایجنڈا D33 کے مقاصد کی حمایت کرتا ہے۔"

Ava Labs کے چیف بزنس آفیسر جان ناہاس نے کہا: "بلاک چین کی سب سے مضبوط ایپلیکیشنز اکثر وہ ہوتی ہیں جنہیں لوگ بمشکل محسوس کرتے ہیں۔ DIFC عدالتیں Avalanche کو استعمال کر کے اہم دستاویزات کو سرحدوں کے پار چند سیکنڈ میں قابلِ تصدیق بنا رہی ہیں، جبکہ خفیہ معلومات بلاک چین سے باہر رہتی ہیں۔ یہ اس بات کی ایک نمایاں مثال ہے کہ قابلِ اعتماد ادارے لوگوں سے ان کے طریقۂ رابطہ میں تبدیلی کا تقاضا کیے بغیر مخصوص مقصد کے لیے تیار کردہ انفراسٹرکچر اپنا رہے ہیں۔"

یہ سند خاص طور پر ان کاروباری اداروں اور افراد کے لیے اہم ہے جن کا متحدہ عرب امارات سے کوئی تعلق نہیں، لیکن وہ DIFC عدالتوں کے اختیاری دائرۂ اختیار کے تحت انہیں اپنے تنازعات کے حل کے فورم کے طور پر منتخب کرتے ہیں۔ جب DIFC عدالتوں کی کوئی دستاویز کسی دوسرے دائرۂ اختیار میں استعمال کی جاتی ہے تو وصول کنندہ کو اس کی قانونی حیثیت اور اصالت دونوں ثابت کرنا پڑ سکتی ہیں۔ یہ سند دستاویز کے ماخذ اور سالمیت کی تصدیق ممکن بناتی ہے۔

یہ اقدام DIFC عدالتوں کی جانب سے ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی کے موجودہ استعمال کی توسیع ہے۔ DIFC عدالتوں کی نوٹری سروس کے ذریعے انجام پانے والی توثیقی کارروائیاں Hedera پر درج کی جاتی ہیں، جبکہ نیا نظام عدالتی احکامات اور سماعت کے ریکارڈ کے لیے بلاک چین کے ذریعے قابلِ تصدیق اسناد فراہم کرنے کے لیے Avalanche C-Chain استعمال کرتا ہے۔ اس نظام کو DIFC عدالتوں کے بلاک چین ٹیکنالوجی پارٹنر Deca4 Advisory نے ڈیزائن اور نافذ کیا ہے، اور اسے عدالتوں کے موجودہ دستاویزی انفراسٹرکچر کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔

ماخذ: DIFC عدالتیں